داخلی برتاؤ

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - باطنی سلوک، اندرونی رویہ، پوشیدہ جذبات۔ "یہ تو کوئی بھی نہیں کہتا کہ انسان خارج سے متعلق اپنے داخلی برتاؤ یا جذباتی رد عمل کا اظہار نہ کرے۔"      ( ١٩٥٤ء، ادب اور شعور، ١٨٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'داخلی' کے ساتھ ہندی سے ماخوذ اسم 'برتاؤ' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً سب سے پہلے ١٩٥٧ء سے "ادب اور شعور" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - باطنی سلوک، اندرونی رویہ، پوشیدہ جذبات۔ "یہ تو کوئی بھی نہیں کہتا کہ انسان خارج سے متعلق اپنے داخلی برتاؤ یا جذباتی رد عمل کا اظہار نہ کرے۔"      ( ١٩٥٤ء، ادب اور شعور، ١٨٠ )

جنس: مذکر